World

Federal debt rises to Rs83.6 trillion amid 75% increase over four years, adding Rs35.8 trillion since 2022.

پاکستانی وفاقی حکومت کا قرضہ جون 2025 تک 83.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ چار سالوں میں 75% اضافہ ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ سال کے 78 ٹریلین سے 7.3٪ زیادہ ہے۔

By AVI News News Desk2 min read
Federal debt rises to Rs83.6 trillion amid 75% increase over four years, adding Rs35.8 trillion since 2022.
🔍 Click to enlarge

Federal debt rises to Rs83.6 trillion amid 75% increase over four years, adding Rs35.8 trillion since 2022.

AI-generated photo by Cloudflare Workers AI techexpert
پاکستان کے وفاقی معاشی کمیٹی کے مطابق، جون 2025 میں وفاقی قرضہ 83.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے 78 ٹریلین روپے سے 5.8 ٹریلین روپے زیادہ ہے اور 7.3٪ کا اضافہ ہے۔ یہ رقم، اس وقت کے 2022 کے معاہدے کے بعد جہاں حکومت نے پہلی بار بجٹ پیش کیا، 35.8 ٹریلین روپے کا اضافہ کرتی ہے۔ خارجی قرضوں کو چھوڑ کر، وفاقی حکومت کے اندرونی قرضے 54.5 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 59.5 ٹریلین روپے ہو گئے، جو 9.1٪ کا اضافہ ہے۔ ان مالی بوجھوں کے باوجود، وفاقی آمدنی میں گزشتہ چار سالوں میں 107٪ اضافہ ہوا، لیکن اخراجات 66٪ بڑھ کر مزید بوجھ بنے۔ پنچایتی مصرف کا تقریباً 42٪ سے 50٪ حصہ سود کے ادائیگیوں پر مشتمل ہے، اور سرکار نے آمدنی کے 8 ٹریلین روپے کو قرضے کی سروسنگ کے لیے مختص کیا ہے۔ مزید برآں، 8.8 ٹریلین روپے صوبوں کو NFC کے تحت دیتا ہے۔ فی الحال، وفاقی حکومت کو ہر سال 0.5٪ سے 0.75٪ جی ڈی پی تک قرضہ کم کرنے کا پابند ہے، لیکن حالیہ عمل منصب مطابق قانون کی خلاف ورزی کا شکار ہے۔ بیرونی قرضے 23.4 ٹریلین روپے سے 24.2 ٹریلین روپے تک بڑھے، جہاں ریٹینشن کا ریزرو 783 ارب روپے رہا۔ یہ بڑھتا ہوا قرض، کلانہ فائدہ اور نیٹِفوٹنگ کے ساتھ، پاکستان کو 20٪ سے 23٪ جی ڈی پی کے مطابق غیر ثابت رہنے کی بنا بناتا ہے، جتنے کے پیش از 15٪ جی ڈی پی حالت مدنظر رکھتے ہیں۔ فی الحال مالیاتی انتظامیہ ماحولیاتی شاکوں کا سامنا کر رہی ہے، اور سعودی و اسرائیلی تنازعات کے اثرات بھی محسوس ہو رہے ہیں۔