ترکی، سعودیہ عرب اور پاکستان نے ممکہہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کر کے علاقائی سلامتی میں اہم تبدیلی کی۔.
اگست 12، 2026 کو ڈاؤن نے رپورٹ کی کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد خطے میں بیرونی جارحیت کے خلاف ایک مشترکہ ڈِٹیرنٹ بنانا ہے۔
By AVI News News Desk2 min read

🔍 Click to enlarge
ترکی، سعودیہ عرب اور پاکستان نے ممکہہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کر کے علاقائی سلامتی میں اہم تبدیلی کی۔.
AI-generated photo by Cloudflare Workers AI techexpertاگست 12، 2026 کو ڈاؤن نے رپورٹ کی کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ، جسے ممکہہ دفاعی معاہدہ کہا جاتا ہے، ایک طرز آرتیکل‑5 جیسی نظام کو یقینی بناتا ہے؛ یعنی "کسی ایک رکن پر زہریلی حملے کو تمام رکنوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔"
مکمل متن عوامی نہیں ہوا لیکن اس میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی خاص ملک پر توجہ نہیں دیتا بلکہ بیرونی جارحیت کے خلاف ڈراؤنے کا دائرہ ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گزشتہ سال ایک بلاتریتی معاہدہ موجود تھا، اور ترکی کی شمولیت سے حصر مزید وسیع ہوا۔
یہ قدم امریکہ کے ایران پر جاری جنگ اور اسرائیل کے توسیعی فوجی کارروائیوں کے دوران اٹھایا گیا۔ سعودیہ عرب کو اس جنگ سے براہ راست متاثر ہوئے، جبکہ پاکستان اور ترکی کا باقی حصہ کم متاثر ہوا؛ تاہم، خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیشِ منظر یہ معاہدہ ایک نویں حفاظتی طاقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
ایران کے وزیر برائے خارجہ عباس آرَغچی نے اپنے پیغام میں مسلمانوں کو مگرموری کا حصہ بننے کی تاکید کی، مگر اس کے بیان میں واضح نہیں ہوا کہ وہ تمام تین ممالک پر اطلاق ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ایبرہیم رضائیی نے کہا کہ "سعودی عرب کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک صفحے پر کاغذ کا معاہدہ ہے، جو حقیقی تحفظ فراہم نہیں کرے گا، جیسا کہ امریکہ پر وابستگی کا اصرار پہلے ناکام رہا ہے۔"
اسرائیل نے اس معاہدے کو اپنی سلامتی کے لیے سنگین خطرے کے طور پر دیکھا، جبکہ بھارت نے بھی خدشات ابھارے، کیونکہ پاکستان اس کے اہم شراکت دار کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ ان دنوں کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتانی نے ٹیلیفون پر خصوصی حکمت عملی پر گفتگو کی۔
مجموعی طور پر، یہ معاہدہ خطے میں بڑی تبدیلیوں کی پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے، لیکن اس کے عملی اثرات کے لیے رکن ممالک کی مشترکہ کارروائی ضرورت بھلائی پیدا کرے گی۔