World

راولپنڈی میں ایک شخص پر زیادتی کی جھوٹی رپورٹ درج کروانے والی خاتون اور اس کے ساتھی کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

راولپنڈی پولیس نے ایک خاتون اور اس کے ساتھی کے خلاف جھوٹی معلومات فراہم کرنے اور سنگین الزامات لگانے پر قانونی کارروائی کی ہے، جس میں خاتون نے اعتراف کیا کہ اس نے کسی دوسرے شخص کے کہنے پر یہ سازش رچی تھی۔

By AVI News News Desk2 min read
راولپنڈی میں ایک شخص پر زیادتی کی جھوٹی رپورٹ درج کروانے والی خاتون اور اس کے ساتھی کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
🔍 Click to enlarge

راولپنڈی میں ایک شخص پر زیادتی کی جھوٹی رپورٹ درج کروانے والی خاتون اور اس کے ساتھی کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

راولپنڈی کے تھانہ دھمیال کی پولیس نے ایک خاتون اور اس کے ساتھی کے خلاف جھوٹی معلومات فراہم کرنے اور سنگین الزامات لگانے کے جرم میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، اسسٹنٹ سب انسپکٹر رضوان اعوان نے رپورٹ کیا کہ ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر وقار خان نامی شخص کی جانب سے اطلاع ملی تھی کہ بانی سٹاپ پر ایک شخص نے خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ تاہم جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو کال کرنے والا شخص وہاں موجود نہیں تھا اور اس کا فون بھی بند تھا۔ پولیس کو بانی سٹاپ پر ایک خاتون ملی جس نے اپنا نام شہانہ کوثر بتایا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ شاہد نامی شخص سے مدد لینے اس کے گھر گئی تھی، جہاں شاہد نے اسے گھر کے اندر لے جا کر پستول میز پر رکھا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ خاتون کے مطابق شاہد نے اسے اپنا فون نمبر لکھ کر دیا اور اگلے دن رابطہ کرنے کو کہا۔ خاتون نے بتایا کہ وہ Bykea رائڈر وقار خان کے ساتھ وہاں گئی تھی اور اسی سے ہیلپ لائن 15 پر کال کروائی۔ پولیس نے خاتون کے بیان کو مشکوک سمجھتے ہوئے تحقیقات شروع کیں جس میں واقعے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایک خاتون کانسٹیبل کی پوچھ گچھ کے دوران خاتون نے انکشاف کیا کہ اس کا اصل نام مسرت غفور ہے۔ خاتون نے اعتراف کیا کہ زیادتی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اس نے راجہ ریاست نامی شخص کے کہنے پر شاہد کے خلاف جھوٹا واقعہ گھڑا اور وقار خان کے ذریعے پولیس کو اطلاع دلوائی۔
راولپنڈی میں زیادتی کی جھوٹی رپورٹ پر دو افراد کے خلاف مقدمہ | AviEcho