World

سابق جج سپریم کورٹ کا Dawn میں کالم: پاکستان کی آزادی اب تک ادھوری ہے کیونکہ ہم نے حکمرانوں کی قومیت تو بدلی مگر حکمرانی کی نوعیت نہیں بدلی۔

سابق جج سپریم کورٹ نے قیام پاکستان کے 79 سال بعد colonial mind کے اثرات اور عدلیہ کی کردار سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے حقیقی آزادی کے لیے تعلیم اور انسانیت کے علوم کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

By AVI News News Desk2 min read
سابق جج سپریم کورٹ کا Dawn میں کالم: پاکستان کی آزادی اب تک ادھوری ہے کیونکہ ہم نے حکمرانوں کی قومیت تو بدلی مگر حکمرانی کی نوعیت نہیں بدلی۔
🔍 Click to enlarge

سابق جج سپریم کورٹ کا Dawn میں کالم: پاکستان کی آزادی اب تک ادھوری ہے کیونکہ ہم نے حکمرانوں کی قومیت تو بدلی مگر حکمرانی کی نوعیت نہیں بدلی۔

سابق جج سپریم کورٹ نے Dawn میں شائع ہونے والے ایک کالم میں قیام پاکستان کے 79 سال بعد ملک کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1947 میں ہم نے صرف حکمرانوں کی قومیت بدلی تھی، لیکن حکمرانی کی نوعیت کو تبدیل کرنے کا مشکل کام آنے والی نسلوں پر چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے اسے ایک 'ادھوری آزادی' قرار دیا ہے۔ مصنف کے مطابق برطانوی راج نے نہ صرف زمین پر قبضہ کیا بلکہ لوگوں کے ذہنوں کو بھی غلام بنایا، جس کا مقصد شہریوں کو ریاست کا مالک بنانے کے بجائے انہیں محض محکوم بنانا تھا۔ انہوں نے Lord Macaulay کے 1835 کے تعلیمی نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایسے افراد پیدا کرنا تھا جو خون اور رنگ میں تو ہندوستانی ہوں لیکن ذوق، اخلاقیات اور عقل میں انگریز ہوں تاکہ وہ حکومت کرنے کے بجائے خدمت گزار بنیں۔ کالم میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں مضبوط سیاسی اداروں کی کمی کی وجہ سے ایک خلا پیدا ہوا، جسے فوج اور سول سروس جیسے نوآبادیاتی اداروں نے پُر کیا۔ مصنف نے عدلیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججوں نے قانون کے بجائے طاقت کے سامنے ہتھیار ڈالے اور 'ڈاکٹرائن آف نیسیسٹی' کے ذریعے غیر قانونی قبضوں کو قانونی شکل دی۔ ان کے مطابق ججوں کی اس کمزوری کی وجوہات خوف، آسائشیں اور تنہائی رہی ہیں۔ سابق جج نے تجویز کیا ہے کہ 'دوسری آزادی' کا آغاز عدالتوں یا پارلیمنٹ کے بجائے کلاس روم سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تاریخ، فلسفہ اور ادب جیسے علوم طلبہ میں وہ کردار اور یقین پیدا کریں گے جس کی بنیاد پر وہ مستقبل میں ناانصافی کو مسترد کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقبال کے یقین اور جناح کے قانونی دلائل کا مجموعہ تھا، لیکن ہم نے شاعر کو بھلا کر صرف دلائل کو یاد رکھا، جس کی وجہ سے ہم آج بھی فیض کی بتائی ہوئی اس 'داغدار صبح' میں جی رہے ہیں جس کی حقیقی روشنی ابھی آنا باقی ہے۔