سعودی عرب ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے پر عالمی میڈیا کے تجزیات جن میں اسرائیل سے جنگی تصادم کے امکانات اور ابراہم ایکارڈز پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
عالمی میڈیا کے مختلف تجزیوں میں مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے فوجی تعاون اور اس کے خطے کی حکمتِ عملی پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
By AVI News News Desk1 min read

🔍 Click to enlarge
سعودی عرب ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے پر عالمی میڈیا کے تجزیات جن میں اسرائیل سے جنگی تصادم کے امکانات اور ابراہم ایکارڈز پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے، جسے مکہ معاہدہ کہا جا رہا ہے، کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں مختلف تجزیے سامنے آئے ہیں۔ The Times of Israel کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد میدانِ جنگ میں اسرائیل کو چیلنج کرنا نہیں ہے۔
دوسری جانب Fox News نے اس تعاون کو ایک نئے پاور ایکسس کے طور پر دیکھا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ تین بڑی فوجی قوتوں کا ایک ہونا Abraham Accords کی حکمتِ عملی کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ Foreign Policy نے اس حوالے سے پاکستان کو حاصل ہونے والے فوائد پر بحث کی ہے، جبکہ South China Morning Post نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس پیش رفت سے چین، بھارت اور پاکستان کے درمیان موجود جوہری تناظر مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ aljazeera.com نے ان تینوں ممالک کی مشترکہ فوجی صلاحیتوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں تاکہ اس اتحاد کی عملی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکے۔