شعبہ ہُسٹیز کی نئی سمندری غرجوں میں کشتیوں پر حملے؛ ایران‑امریکی مذاکرات نئی رکاوٹ پر پہنچے۔.
امریکی اور یمن کے حوثی کی جانب سے ہفتہ کے دن سمندر میں دو نئے حملوں کا اعلان کیا گیا، جس سے حیاتیاتی نیروی راستے پر دوبارہ تناؤ پیدا ہوا۔ اسی دوران، ایران کی حکومت نے ہورموز جوڑ پر بند کا اعلان کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے جنگ کے حل کو مبہم بنا دیا۔
By AVI News News Desk2 min read

🔍 Click to enlarge
شعبہ ہُسٹیز کی نئی سمندری غرجوں میں کشتیوں پر حملے؛ ایران‑امریکی مذاکرات نئی رکاوٹ پر پہنچے۔.
دائیک امریکی اور یمن کے حوثی نے ہفتہ کے دن سمندر میں دو نئے حملوں کا اعلان کیا؛ پہلی رپورٹ میں باب ال‑منڈیاب سٹریٹ میں ایک چھوٹی کارگو جہاز پر حملہ دکھایا گیا جس میں چار عملہ اکلوتے ہوئے اور دو یمنی ریسکیوئرز شہید ہوئے۔ اس کے بعد، معیشتی نیروی راستے پر سرمایہ لگانے والی ایک پناما فلیگ کارگو شپ پر ایس ایچ آر ای-60 ہیلیکوپٹر نے ہیل فائر میزائل فائر کر کے اس کے سٹیرنگ گیئر کو ہدف بنایا۔ حوثی کا یہ اقدام سعودی عرب پر بحری جیل لگانے کی وادی کا حصہ تھا، جبکہ سعودی حکومت نے ابھی تک کسی براہ راست ردعمل کا اعلان نہیں کیا ہے۔
ایران کے وزارتِ سلامتی کے اعلیٰ افسر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ہورموز جوڑ کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک امریکہ ایران کے مطالبات کو نہیں مانے، جن میں ایران کے فریزڈ اثاثوں کی رہائی اور خطے میں جاری تنازعات کو ختم کرنا شامل ہے۔ یہ رکاوٹ عالمی تیل کی فراہمی میں اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ہورموز جوڑ دنیا بھر کے تیل اور مائع فطری گیس کے 20٪ سے زائدی کو نقل کرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہفتہ کے دن کئی بیانات میں جنگ کے حل کو “قریبی” ہونے کا ادعا کیا لیکن ساتھ ہی وضاحت کی کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے ریئل اریا وال آئی نکب کی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ ہورموز جوڑ پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔
ایرانِ پارلیمنٹ ہورموز جوڑ پر ایک نئے قانون کی تیاری میں ہے جو “دشمن” ملکوں سے آنے والے بحری جہازوں کو داخلی اجازت کے بغیر گلاک میں داخل ہونے سے روکے گا۔ اس ملک کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون ایران کے ماہِ عنصر کو بڑھائے گا اور صحرا کی بہتری کے ساتھ ساتھ خطے کی توانائی فراہمی کو محفوظ بنائے گا۔