World

فیصل آباد میں 2026 کے سات ماہ کے دوران خودکشی کے 28 کیسز رپورٹ ہوئے، معاشی بدحالی اور ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی کو بنیادی وجوہات قرار دیا گیا۔

فیصل آباد میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی شرح میں بے روزگاری اور گھریلو جھگڑوں کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی اور زہریلی گولیوں کی آسان رسائی اہم عوامل ہیں۔

By AVI News News Desk2 min read
فیصل آباد میں 2026 کے سات ماہ کے دوران خودکشی کے 28 کیسز رپورٹ ہوئے، معاشی بدحالی اور ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی کو بنیادی وجوہات قرار دیا گیا۔
🔍 Click to enlarge

فیصل آباد میں 2026 کے سات ماہ کے دوران خودکشی کے 28 کیسز رپورٹ ہوئے، معاشی بدحالی اور ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی کو بنیادی وجوہات قرار دیا گیا۔

The Express Tribune کی ایک رپورٹ کے مطابق، فیصل آباد میں سال 2026 کے ابتدائی سات مہینوں کے دوران خودکشی کے 28 واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات کے نتیجے میں متعدد خاندانوں کو شدید صدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سے کئی افراد مکمل طور پر متاثرین کی آمدنی پر منحصر تھے۔ تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان افسوسناک واقعات کے پیچھے بے روزگاری، گھریلو ناچاقی اور خاندانی تنازعات جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لوگوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کی وجہ سے وہ شدید دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات، سستے علاج اور ایک معاون معاشرتی ماحول کی شدید کمی ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن پہلو یہ ہے کہ خودکشی کے لیے استعمال ہونے والی پیسٹیسائیڈ گولیاں (pesticide tablets) کسی ماہرِ نفسیات سے وقت لینے کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں۔ فیصل آباد کمشنر کی پابندی کے باوجود یہ زہریلے مواد اب بھی ریٹیل اسٹورز پر دستیاب ہیں۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ایک شہر میں 28 قابلِ تلافی اموات ایک سنگین مسئلہ ہیں، جس کے حل کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کے نظامِ صحت میں ذہنی صحت کے ڈھانچے کو ترجیح دے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔