World

لاہور میں الیکٹرک بائیکس کے بڑھتے استعمال اور ریگولیشنز کی کمی سے پیدل چلنے والوں اور معذور افراد کے لیے خطرات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

لاہور میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور ڈیلیوری سروسز کی وجہ سے الیکٹرک بائیکس کا رجحان بڑھ رہا ہے، تاہم جامع قوانین کی عدم موجودگی میں یہ ٹیکنالوجی عوامی تحفظ کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

By AVI News News Desk2 min read
لاہور میں الیکٹرک بائیکس کے بڑھتے استعمال اور ریگولیشنز کی کمی سے پیدل چلنے والوں اور معذور افراد کے لیے خطرات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
🔍 Click to enlarge

لاہور میں الیکٹرک بائیکس کے بڑھتے استعمال اور ریگولیشنز کی کمی سے پیدل چلنے والوں اور معذور افراد کے لیے خطرات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

لاہور کی سڑکوں پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، فوڈ ڈیلیوری سروسز کے پھیلاؤ اور حکومتِ پنجاب کی ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے الیکٹرک بائیکس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم، The Express Tribune کی رپورٹ کے مطابق، شہر میں ان گاڑیوں کے محفوظ انضمام کے لیے ضروری تیاریوں اور قوانین کی کمی ہے، جس کی وجہ سے E- پیدل چلنے والوں، اسکول کے بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کے لیے سڑکوں پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گلبرگ، لبرٹی، DHA، جوہر ٹاؤن، انارکلی اور مال روڈ جیسے مصروف علاقوں میں ڈیلیوری رائڈرز ٹریفک سے بچنے کے لیے فٹ پاتھوں کا استعمال کر رہے ہیں اور پیدل چلنے والوں کے راستوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان بائیکس کی خاموشی انہیں مزید خطرناک بناتی ہے کیونکہ پیدل چلنے والوں، خاص طور پر بصارت سے محروم افراد کو ان کی آمد کا وقت پر احساس نہیں ہوتا، جس سے حادثات کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ Safe City Authority کے نگرانی کے نظام اور ٹریفک قوانین کے ذریعے سڑکوں کو محفوظ بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں، لیکن کمرشل ڈیلیوری اور بائیک شیئرنگ اسکیموں کے لیے اب تک کوئی جامع ریگولیشنز موجود نہیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کو پرانے قانونی ڈھانچے میں بغیر کسی تبدیلی کے لانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پنجاب کو تجاویز دی گئی ہیں کہ تمام کمرشل الیکٹرک بائیک رائڈرز کی لازمی رجسٹریشن کی جائے اور انہیں روڈ سیفٹی سرٹیفیکیشن فراہم کی جائے۔ مزید برآں، ڈیلیوری کمپنیوں کے لیے تھرڈ پارٹی لیبلٹی انشورنس لازمی قرار دی جائے تاکہ حادثات کی صورت میں طبی اخراجات کی فوری ادائیگی ممکن ہو۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکٹرک بائیکس کے لیے مخصوص پارکنگ کے قوانین بنائے جائیں اور Safe City کیمروں کے ذریعے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ماحول کی صفائی کے ساتھ ساتھ شہریوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔