لاہور میں ٹریفک پولیس کی کارکردگی اور پاکستان کے سرکاری اداروں میں سخت سزاؤں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر ماہر معاشیات نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک ماہر معاشیات نے Dawn میں شائع مضمون میں لاہور کی ٹریفک مینجمنٹ اور ملک بھر کے سرکاری اداروں میں قانون کی تعمیل کے لیے سخت سزاؤں کے استعمال پر تنقید کی ہے۔
By AVI News News Desk2 min read

🔍 Click to enlarge
لاہور میں ٹریفک پولیس کی کارکردگی اور پاکستان کے سرکاری اداروں میں سخت سزاؤں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر ماہر معاشیات نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
لاہور میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ماہر معاشیات نے بتایا کہ شہر کے کئی چوراہوں پر ٹریفک سگنلز بند یا غیر فعال ہیں، جس سے ٹریفک میں شدید دشواری پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ وہاں موجود ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے بجائے صرف موٹر سائیکل سواروں اور کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو روک کر جرمانے کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
مصنف کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے لیے سڑکوں پر حفاظت اور روانی کے بجائے چالان کے کوٹہ کو پورا کرنا زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے تقریباً تمام سرکاری ادارے اب قانون کی تعمیل کے لیے سخت سزاؤں کا سہارا لے رہے ہیں، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔
مضمون میں ذکر کیا گیا ہے کہ موٹرویز پر تیز رفتاری کے خلاف FIR درج کرنے اور گرفتاریوں جیسے اقدامات کیے گئے، یہاں تک کہ 16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے خلاف بھی FIR درج کیے گئے، جس سے ان کے مستقبل اور کیریئر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گیس، بجلی کی چوری اور ٹیکس معاملات میں بھی سخت سزاؤں کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
مصنف نے میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے پر پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب خبروں کی رپورٹنگ زیادہ خطرناک ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ HRCP نے پنجاب کے کرائم کنٹرول اور دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے اداروں کی جانب سے مشتبہ افراد کے ساتھ سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جہاں مبینہ مقابلے میں ہونے والی اموات پر کوئی عدالتی انکوائری نہیں ہوئی۔
ماہر معاشیات نے موقف اختیار کیا کہ ریاست کو سخت قوانین کے بجائے بھروسے اور باہمی فائدے کی بنیاد پر چلانا چاہیے، کیونکہ صرف سزاؤں کے ذریعے حاصل کی گئی تعمیل طویل مدت میں ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو ختم کر دیتی ہے۔