وزیر داخلہ محسن نقوی کی قومی سلامتی میں جامع اصلاحات کی تجویز اور مقامی حکومتوں کی بحالی و موسمیاتی سرمایہ کاری کی ضرورت پر ماہرِ موسمیات کا تجزیہ۔
ڈان میں شائع ایک تجزیے کے مطابق قومی سلامتی کے لیے محض انتظامی اصلاحات کافی نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے 56.6 بلین ڈالر کی سالانہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
By AVI News News Desk2 min read

🔍 Click to enlarge
وزیر داخلہ محسن نقوی کی قومی سلامتی میں جامع اصلاحات کی تجویز اور مقامی حکومتوں کی بحالی و موسمیاتی سرمایہ کاری کی ضرورت پر ماہرِ موسمیات کا تجزیہ۔
WHEN کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں قومی سلامتی کے لیے جامع اصلاحات کی ضرورت کا اظہار کیا ہے، جس کی ISPR نے بھی حمایت کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ریاست کی کارکردگی بہتر بنانے، ہم آہنگی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو عوام کی دہلیز تک لانے پر زور دیا ہے۔
تاہم، ڈان میں شائع ایک مضمون میں ماہرِ موسمیات نے موقف اختیار کیا ہے کہ قومی سلامتی کے موجودہ بیانیے میں موسمیاتی تبدیلیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، جو 2010 کے بعد سے کسی بھی عسکری گروپ، معاند پڑوسی یا سیاسی بحران کے مقابلے میں معیشت اور طرزِ حکمرانی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ پاکستان کی اپنی منصوبہ بندی کے مطابق موسمیاتی سرمایہ کاری کے لیے سالانہ تقریباً 56.6 بلین ڈالر درکار ہیں، جو کہ دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کے مجموعی اخراجات سے ڈیڑھ گنا زیادہ اور وفاقی ترقیاتی بجٹ سے تقریباً 20 گنا زیادہ ہیں۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام تین بار (ایوب خان کی بنیادی جمہوریت، ضیاء الحق کے مقامی ادارے اور مشرف دور کے LGO 2000) متعارف کرایا گیا، لیکن یہ تمام نظام اختیارات کے بغیر محض اوپر سے تھوپے گئے تھے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر انتظامی صلاحیتیں پیدا نہ ہو سکیں۔ موجودہ ڈھانچے میں ترقیاتی فنڈز پر قانون سازوں کا اثر و رسوخ ہے، جس کی وجہ سے PSDP میں غیر منظم مختصات کی کثرت ہے اور حقیقی مقامی حکومتوں کی جڑیں مضبوط نہیں ہو سکیں۔
مضمون کے مطابق معاشی نظام میں مخصوص طبقے کا غلبہ ہے جہاں گاڑیوں کی صنعت، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے اور رئیل اسٹیٹ کے کم سرکاری نرخ جیسے مسائل موجود ہیں۔ بینکوں کا سرکاری قرضوں پر انحصار SMEs کے لیے قرضوں کی دستیابی کو مشکل بناتا ہے، جس سے NAP اور NDC کے نفاذ میں رکاوٹ آتی ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسی تب تک مکمل نہیں ہوگی جب تک اسے ضلع cấp تک فعال نہ کیا جائے اور موسمیاتی لچک کو ریاست کی ترجیحات میں شامل نہ کیا جائے۔